سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شبلی فراز نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے پارٹی رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کا ٹاسک دینے سے متعلق مؤقف دینے سے انکار کردیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریٹنڈنٹ جیل تین ججز کے عدالتی فیصلے کا نہیں مان رہے، عدالت کا وقار اور رعب و دبدبہ تو ختم ہو گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عدالتیں زیرو ہو گئی ہیں، عدلیہ اور ججز اپنی عزت کی حفاظت خود کریں گے، حماد اظہر پڑھے لکھے لیڈر ہیں، ان کی جانب سے استعفی پر افسوس ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں گروپ بندیوں کی بات درست نہیں، خان صاحب کی شخصیت اور فیصلے پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں، ہر صوبے کی اپنی پالیٹکس اور زمینی حقائق ہیں، اس میں کسی دوسرے کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کسی کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دینے کا علم نہیں، خان صاحب سے ملاقات کو چھ ماہ ہو گئے، عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں کرائی جا رہی۔
شبلی فراز نے کہا کہ جب تک خان صاحب سے اس بات کا علم نہیں ہو گا کسی قیاس آرائی پر مؤقف نہیں دے سکتے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کے ساتھ علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر سیف کی خصوصی ملاقات کے بعد ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات کو جاری رکھنے کی رضا مندی کا اظہار کیا۔